چین اور بھارت تصادم کی راہ پر؟

540820-CHINAINDIA-1466729325-282-640x480

مفادات کی اسیر امریکی سپر پاور بھرپور کوشش کر رہی ہے کہ دونوں پڑسیوں کو لڑوا کر ایشیا میں نئی گریٹ گیم کاآغاز کر دیا جائے…سنسنی خیز انکشافات ۔ فوٹو : فائل

وسط جون میں اچانک طورخم بارڈر پر افغان اور پاکستانی افواج کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئیں۔بظاہر ان جھڑپوں کی وجہ متنازع بارڈر پر گیٹ کی تعمیر تھی،مگر اصل معاملہ کچھ اور ہے۔افغان حکومت امریکا کی کٹھ پتلی ہے۔یہ صرف امریکیوں کی مالی امداد سے قائم ہے۔اور امریکی اپنی کٹھ پتلی کے ذریعے فائرنگ کرا کر پاکستان پہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ وہ اس کی چین سے بڑھتی قربت پر ناراض ہیں۔ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ،ایف سولہ طیارے دینے سے انکار اور سالانہ امداد پہ پابندیاں لگانا بھی اسی معاملے کی کڑیاں ہیں۔اور یہ کڑیاں ایشیا میں جنم لیتی نئی گریٹ گیم سے جا ملتی ہیں۔

اس نئی گریٹ گیم کا آغاز چند سال قبل ہوا جب چین نے اعلان کیا کہ وہ بحیرہ جنوبی چین کے 82 فیصد رقبے کا مالک ہے۔امریکا اور اس کے اتحادیوں نے یہ دعوی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اکلوتی سپر پاور، امریکا بحرالکاہل کو اپنی کالونی وعملداری سمجھتا ہے۔اسے احساس ہوا کہ چین علاقے میں اس کی چودھراہٹ کو چیلنج کر رہا ہے ۔چناں چہ وہ چینیوں کو چنوتی دینے کے لیے وقتاً فوقتاً اپنے طیارہ برادر و جنگی بحری جہاز بحیرہ جنوبی چین بھجوانے لگا۔

چین سّکہ بند معاشی طاقت بن چکا اور وہ اپنی عسکری قوت میں بھی بہ سرعت اضافہ کر رہا ہے۔چینیوں کو یہ ناگوار گذرا کہ امریکی انہی کے علاقے میں پہنچ کر انھیں دھمکیاں دینے لگے ہیں۔آخر انھوں نے چوڑیاں تو پہن نہیں رکھیں!لہذا چین بھی مختلف طریقوں سے اپنے ’’مسلز‘‘دکھانے لگا۔یوں ایشیا میں نئی گریٹ گیم کا آغاز ہو گیا۔اس گیم کا اچھوتا پہلو یہ ہے کہ حریف کھل کر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نہیں بلکہ خفیہ سازشوں اور چالوں سے حریفوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

چین نے خاص طور پہ پچھلے تین چار عشروں میں پُر امن رہ کر محیر العقول معاشی ترقی کی ہے ۔وہ اب بھی علی الاعلان کسی ملک سے پنگا لے کر اپنی معاشی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا۔تاہم اپنے مفادات محفوظ کرنے کی خاطر چینی پس پردہ رہ کر دشمنوں کے واروں کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔چین کا قریبی ساتھی ہونے کے علاوہ ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ کی وجہ سے بھی پاکستان اس نئی گریٹ گیم میں چینیوں کا حلیف بن چکا۔امریکا کو یہی بات کھل رہی ہے۔

پاکستان نے چین کے خلاف جانے سے انکار کیا،تو امریکا بھارت سے کُھل کر اظہار ِقربت کرنے لگا۔ماہ مئی میں پیسفک کمانڈ کے سربراہ، ایڈمرل ہیری پیرکس نے بھارت کا دورہ کیا۔ پیسفک کمانڈ امریکی افواج کی سب سے بڑی اور قدیم ترین یونیفائیڈ کمباٹینٹ کمانڈ (Unified Combatant Command) ہے۔ دورے کے اختتام پر بھارتی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈمرل ہیری ہیرس نے شاعرانہ لب و لہجہ اختیار کرلیا۔ بولے: ’’میں جب مستقبل پر نظر ڈالوں، تو میری آنکھوں میں حسین سپنے سج جاتے ہیں۔ چہار جانب جھلمل جھلمل کرتے ستارے نظر آتے ہیں۔ وہ دن قریب ہے جب امریکی و بھارتی بحری جہاز شانہ بشانہ بحرالکاہل اور بحرہند کے سنہرے پانیوں میں رواں دواں ہوں گے۔ انہی دونوں ممالک کے ذریعے سمندروں پر آزادی کی دیوی کا راج ہوگا۔‘‘

جاپانی نژاد امریکی ایڈمرل ہیری ہیرس نے خواہ مخواہ شاعرانہ پیرایہ نہیں اپنایا، یوں وہ بھارتیوں کو رجھانا و پھسلانا چاہتے تھے۔ آج بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانا امریکی افواج کے بڑوں کی دیرینہ خواہش بن چکی۔ امریکی جرنیلوں کو یقین ہے کہ مستقبل میں چین سے ممکنہ عسکری و معاشی تصادم کی صورت میں بھارت ان کے بہت کام آسکتا ہے۔ اسی لیے امریکی جرنیلوں نے اوباما حکومت پر شدید دباؤ ڈال رکھا ہے کہ بھارت سے عسکری، معاشی، تجارتی اور سیاسی تعلقات بڑھائے جائیں… چاہے اس دوران امریکا کا قدیم حلیف، پاکستان ناراض ہوجائے۔

تعلقات میں ڈرامائی تبدیلی
دلچسپ بات یہ کہ ماضی میں بھارت اور امریکا کے تعلقات خاصے سرد مہر رہے ہیں۔ 1954ء میں امریکا نے پاکستان کو ’’نیٹو‘‘ کا رکن بنوا دیا۔ جواب میں بھارت نے سوویت یونین سے عسکری و معاشی تعلقات بڑھالیے اور دونوں مضبوط دوستی میں بندھ گئے۔سویت یونین تحلیل ہوا، تب بھارت میں مغرب پرست من موہن سنگھ وزیر خزانہ بنے بیٹھے تھے۔ ان کے دور میں پہلی مرتبہ امریکا سے تجارتی تعلقات بڑھے اور سرد مہری کی برف پگھلنے لگی۔ رفتہ رفتہ تعلقات بڑھتے چلے گئے۔ من موہن سنگھ دور (2004ء تا 2014ء) میں یہ مستحکم ہوئے۔ جب نریندر مودی وزیراعظم بنے، تو وہ کچھ زیادہ ہی امریکا کی جانب جھک گئے۔ پچھلے دو سال میں وہ امریکا کے سات دورے کرچکے۔ حالانکہ مودی وہی لیڈر ہیں جنہیں امریکیوں نے 2005ء میں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام روک نہیں پائے تھے۔ (حقیقتاً یہ قتل عام مودی کی ہلا شیری پر ہی انجام پایا)۔

عجیب و غریب گریٹ گیم
جب بھارت اور امریکا کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن تھے، تو چینیوں اور امریکیوں میں دوریاں جنم لینے لگیں۔ گو چین اب بھی امریکا کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے، لیکن خصوصاً امریکی افواج اس ابھرتی معاشی و عسکری طاقت کو پسند نہیںکرتیں۔ اور جب چین نے بحیرہ جنوبی چین میں اپنا حق جتانا شروع کیا، تو امریکی افواج کے کان کھڑے ہوگئے۔

آبنائے ڈینور (برطانیہ) کے بعد بحیرہ جنوبی چین میں واقع آبنائے ملاکا ہی دنیا کادوسرا مصروف ترین بحری راستہ ہے۔ یہیں سے دنیا کا 50 فیصد سے زیادہ بحری سامان گزرتا ہے۔ بحیرہ جنوبی چین کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ یہاں 11 ارب بیرل تیل اور 266 ٹرلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر واقع ہیں۔

چین بحیرہ جنوبی چین کی حدود متعین کرنے کے ضمن میں ویت نام، فلپائن، تائیوان اور انڈونیشیا سے اختلافات رکھتا ہے۔ خصوصاً ویت نام و فلپائن اور چین کے مابین خاصی گرما گرمی رہتی ہے۔ دوسری طرف امریکا درج بالا دونوں ممالک سے بہ سرعت تعلقات بڑھا رہا ہے۔ مئی 2016ء میں امریکی حکومت نے ویت نام کو ہتھیاروں کی فروخت پر طویل عرصے سے عائد پابندی ہٹانے کا اعلان کیا جبکہ فلپائن میں تو امریکی افواج نے اڈے بنارکھے ہیں۔

بحیرہ جنوبی چین کے تنازع اور دیگر تنازعات مثلاً مسئلہ تبت، چین کی روس سے بڑھتی قربت، پاکستان میں چینیوں کی بڑھتی سرگرمی، امریکیوں کی چین میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تنقید کے باعث غیر مانوس طور پر خطے میں ایک نئی گریٹ گیم شروع ہوگئی تاکہ اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔ ا س نئی گریٹ گیم میں ایک سمت امریکا،جاپان، بھارت، فلپائن، تائیوان، ویت نام ہیں، تو دوسری سمت چین، روس اور پاکستان ایستادہ ہیں۔

بھارت اور چین کا مجادلہ
چین اور بھارت کے مابین سات بڑے اختلافات موجود ہیں۔ اول مسئلہ تبت ہے۔ چین اس امر پر عرصہ دراز سے چراغ پا ہے کہ دلائی لامہ بھارت میں براجمان اپنی عبوری حکومت چلارہے ہیں۔ دوم دو سرحدی تنازعات ہیں۔ دونوں ملک آکسائی چن اور اروناچل پردیش کی ملکیت کے دعوے دار ہیں۔ ان علاقوں میں سرحدی جھڑپیں وقتاً فوقتاً انجام پاتی ہیں۔ سوم بھارت کو تشویش و شکایت ہے کہ چین پاکستانیوں کا زبردست حامی ہے اور وہ پاکستان کی ہر ممکن عسکری و معاشی امداد کرتا ہے۔ چہارم بھارت کو بحیرہ ہند میں چین کے بڑھتے اثرور رسوخ نے پریشان کررکھا ہے۔

بھارتی دانش وروں نے واویلا مچا رکھا ہے کہ چین بحرہند میں مختلف بندرگاہوں پہ اپنے اڈے بناکر بھارت کا گھیراؤ چاہتا ہے۔ اس چینی حکمت عملی کو ’’سٹرنگز آف پرلز ‘‘ کا نام دیا گیا۔ پچھلے چند برس میں بھارتی حکمران طبقے نے کثیر سرمایہ اور توانائی خرچ کی ہے تاکہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور مالدیپ کو دوبارہ اپنے دائرہ اثر میں لے آئے۔ ان ممالک میں چینی بحریہ کی موجودگی سے بھارت خطرہ محسوس کرنے لگا تھا۔پنجم اختلاف ’’پانی‘‘ پر ہے۔ بھارتی دریاؤں برہم پتر اور ستلج کے منبع تبت سطح مرتفع میں واقع ہیں۔ چینی جب چاہیں ان دریاؤں پر بند بناکر شمال مشرقی بھارت اور بھارتی پنجاب میں پانی کی قلت پیدا کرسکتے ہیں۔ بھارتی حکمران طبقہ اس امر سے خوفزدہ رہتا ہے۔

چینی بحریہ کی بڑھتی قوت
امریکا، جاپان، بھارت اور دیگر ممالک کی مخاصمت مدنظر رکھ کر چین اپنی بحریہ کو جدید طیارہ بردار جہازوں، جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے لیس کرنے لگا ہے تاکہ بحیرہ جنوبی چین میں اپنی طاقت کا سّکہ جماسکے۔ماہرین عسکریات کا کہنا ہے کہ 2020ء تک چین دنیا کی سب سے بڑی بحری قوت بن جائے گا۔ تب چینی بحریہ 350 جنگی بحری جہازوں اور 80 آبدوزوں کی حامل ہوگی۔ چین نے نئے طیارہ بردار جہاز بنانے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔اگلے پندرہ سال میں ان کی تکمیل کے بعد چینی بحریہ کو ’’بلیو واٹر نیوی‘‘ کا درجہ مل جائے گا…ایسی طاقتور بحریہ جو دنیا بھر میں اپنی سرگرمیاں انجام دے سکے گی۔

چھٹے اور ساتویں اختلافات نے حال ہی میں جنم لیا ہے۔ چھٹے اختلاف کی وجہ بحیرہ جنوبی چین میں تیل کی تلاش ہے۔ بھارت میں تیل و گیس کا سرکاری ادارہ 1988ء سے ویت نامی ادارے کے ساتھ مل کر بحیرہ جنوبی چین میں تیل و گیس تلاش کررہا ہے۔ 2010ء میں چین نے بھارتیوں کی جنوبی بحیرہ چین میں موجودگی پر اعتراض کیا۔ بھارت نے جواباً جنگی بحری جہاز ویت نام بھجوا دیئے تاکہ وہ اپنا بحری دفاع مضبوط بناسکے۔ بھارت کی اس حرکت کو چین نے متوحش نظروں سے دیکھا۔وہ بھارتی حکومت کو کئی بار اپنا احتجاج ریکارڈ بھی کراچکا ۔

ایشیا کی دونوں بڑی مملکتوں کے درمیان ساتویں وجہِ تنازع سلامتی کونسل اور نیوکلیئر سپلائرز کی رکنیت ہے۔ چین بھارت کو سلامتی کونسل اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنانے کی مخالفت کررہا ہے۔ چینی حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت خصوصاً معاشی طور پر اتنا مستحکم و طاقتور ملک نہیں کہ اسے سپرپاور کا درجہ دے کر رکن سلامتی کونسل بنادیا جائے ْجبکہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے معاملے میں وہ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی رکن بنوانا چاہتا ہے۔ چین کی زبردست مخالفت کے باعث ہی بھارت تادم تحریر ایٹمی ایندھن کی خریدو فروخت سے متعلق اس گروپ کا رکن نہیں بن سکا۔

امریکا سے بھارت کی بڑھتی قربت
پچھلے ایک عشرے میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی سعی رہی ہے کہ وہ دونوں بڑی طاقتوں، امریکا اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھے۔ ماضی قریب میں امریکی و چینی صدور، دونوں نے بھارت کے دورے کیے۔ اس دوران اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدے انجام پائے۔ تاہم پچھلے ایک برس سے بھارت اور چین کے تعلقات میں خاصی سرد مہری آچکی۔ماہرین سیاسیات کے نزدیک پہلی دراڑ ستمبر 2014ء میں پڑی۔ تب چینی صدر، زی جن پنگ نے بھارت کا دورہ کیا، تو لداخ میں بھارتی اور چینی افواج کے مابین زبردست جھڑپیں انجام پائیں۔ مودی حکومت نے ان جھڑپوں کو اندرون خانہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔

بعدازاں اپریل 2016ء میں بھارت نے امریکااور برطانیہ کی مدد سے یہ سرتوڑ کوشش کی کہ اقوام متحدہ جیش محمد اور اس کے قائد مولانا مسعود اظہر پر مختلف پابندیاں عائد کردے۔ مگر سلامتی کونسل میں چین نے بھارتی کوششوں کو ناکام بنادیا ۔اور اب نیوکلیئر سپلائر گروپ کے معاملے میں بھی چین کی مداخلت پر بھارتی حکمران طبقہ طیش میں آیا ہوا ہے۔

بھارتی ماہرین سیاسیات کا دعویٰ ہے کہ اس صورت حال کے باعث بھارتی حکمران طبقہ امریکا سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگا ہے تاکہ چین کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت زبردست معاشی ترقی کی وجہ سے خود کو ’’علاقائی سپرپاور‘‘ سمجھنے لگا ہے۔ چناںچہ وہ خصوصاً بحرہند میں چینی اثرورسوخ کا خاتمہ چاہتا ہے۔

چین کا موقف یہ ہے کہ امریکا اور دیگر مغربی طاقتیں اپنے قدیم اصول ’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کی مدد سے دونوں پڑوسیوں کا تصادم چاہتی ہیں۔ اس لیے چین بھارت کو خبردار کررہا ہے کہ وہ اختلافات کو اس نہج پر نہ لے جائے کہ وہ کھلی جنگ میں بدل جائیں اور واپسی مشکل ہوجائے۔

مودی حکومت کو انتباہ
بھارت میں بھی سیکڑوں دانش ور اور ماہرین مودی حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پھونک پھونک کر قدم بڑھائے اور چین سے تعلقات خراب نہ کرے۔ یہ سوچ جنم لینے کی سب سے بڑی وجہ معاشی ہے۔ یاد رہے، چین بھارت کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے اور ان کی باہمی تجارت کا حجم 80 ارب ڈالر تک پہنچ چکا۔

بھارتی دانشور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چین اور امریکا و دیگر اتحادیوں کے مابین اختلافات بڑھ رہے ہیں، مگر وہ صورتحال کو قابو سے باہر نہیں ہونے دیتے۔ یہی وجہ ہے، خطے میں سبھی امریکی اتحادیوں مثلاً آسٹریلیا، سنگاپور، فلپائن اور ویت نام کا ’’پہلا‘‘ یا ’’دوسرا‘‘ بڑا تجارتی ساتھی چین ہے۔ویت نام ہی کو لیجیے۔ ملائشیا کے بعد چین ہی اس کا دوسرا بڑا ساتھی ہے۔ سال رواں میں دونوں کی باہمی تجارت ’’100 ارب ڈالر‘‘ تک پہنچ جائے گی۔ اسی طرح چین فلپائن کا بھی دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ دونوں کی باہمی تجارت ’’50 ارب ڈالر‘‘ کے ہندسے کو چھونے لگی ہے۔ اسی طرح چین آسٹریلیا (153 ارب ڈالر) اور سنگاپور (121 ارب ڈالر) سے بھی گہرے تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔

درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ بحرالکاہل کے ممالک چین سے اختلافات کو اس نہج پر نہیں لے گئے کہ باہمی تجارت متاثر ہوجائے۔ بلکہ چین اور ان کے مابین تجارتی تعلقات روزافزوں ہیں۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی علاقائی سپرپاور بننے کے شوق میں چین کی دشمنی مول لے سکتے ہیں۔

نریندر مودی کا وژن
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمجھتے ہیں کہ بھارت امریکیوں کی سرمایہ کاری، اسلحے، پانی، ٹیکنالوجی اور زراعت، تعلیم، صحت، توانائی، خلائی سائنس جیسے شعبوں کے ماہرین کی خدمات سے فائدہ اٹھا کر سپرپاور بن سکتا ہے۔ مزید براں امریکا سے تعلقات بڑھا کر وہ امریکیوں کے دیرینہ ساتھی، پاکستان کو بھی تنہا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی غرض سے وہ پاکستان کے پڑوسیوں، ایران اور افغانستان سے بھی تعلقات بڑھا رہے ہیں تاکہ انھیں پاکستانیوں کے خلاف استعمال کر سکیں۔

آج ہر سال ہزارہا بھارتی طالب علم امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھنے جاتے ہیں۔ نیز امریکا میں تین لاکھ بھارتی مقیم ہیں جو وہاں اچھا خاصا اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ بھارت میں انگریزی عام بولی جاتی ہے، نیز بھارتی شہری خصوصاً امریکی تہذیب و تمدن کے اثرات بھی قبول کررہے ہیں۔ غرض آسٹریلیا کی طرح بھارت بھی امریکا کی کالونی بنتا جارہا ہے۔ ماضی میں امریکیوں نے بھارت میں اس لیے دلچسپی لی کہ یہ دنیا کی دوسری بڑی منڈی ہے۔ اب امریکی چین کا دائرہ کار محدود کرنے کے لیے بھارت کی مدد چاہتے ہیں۔

مگر کئی بھارتی دانشور وزیراعظم نریندر مودی کو خبردار کررہے ہیں کہ وہ امریکا کا طفیلی بننے کی غلطی نہ کریں۔ وجہ یہ کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ صرف اپنے مفادات کے تحت عمل کرتی ہے… اوروہ مستقبل میں کسی بھی وقت گرگٹ کی طرح رنگ بدل سکتی ہے۔مثال کے طور پر بحیرہ جنوبی چین میں سرحدوں کا تعین چین اور امریکا و اتحادیوں کے لیے وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔ چین اس سمندر میں مصنوعی جزائر تعمیر کررہا ہے تاکہ وہاں اپنے فوجی و تجارتی اڈے قائم کرسکے۔ مگر اس تنازع کا حل کیا نکلے گا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔

ممکن ہے کہ امریکا چین کو خطے میں سپرپاور تسلیم کرلے اور اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ یوں امریکی اتحادیوں کو ناچار چین کی سرحد بندی قبول کرنا پڑے گی۔ یاد رہے، اس وقت بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر امریکی حکومت سے زیادہ پینٹاگون (امریکی افواج) چین سے لڑائی مول لینا چاہتا ہے مگر مستقبل میں یکدم حالات تبدیل ہوسکتے ہیں۔بھارتی دانشور سوال کرتے ہیں کہ بحیرہ جنوبی چین اور پاک چین اقتصادی راہداری کے معاملے میں بھارتی حکومت چین کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟ چین کی کھلم کھلا مخالفت کرنے اور امریکہ کا طفیلی بن جانے سے مستقبل میں بھارت کو معاشی و عسکری طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مودی کا غرور
دنیا کے تمام بڑے ممالک میں جی ڈی پی کی شرح ترقی سب سے زیادہ بھارت کی ہے یعنی 7.90 فیصد۔ اس کے بعد چین کا نمبر (6.70 فیصد) آتا ہے۔ اس سال امریکا اور چین کے بعد بھارت سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک بن جائے گا۔ عالمی معاشی اداروں کی رو سے بھارت دنیا کی سب سے بڑی ابھرتی معاشی طاقت بن چکا۔ 2015ء میں بھارت میں 63 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جو چین سے بھی زیادہ ہے۔ ان تمام حقائق نے نریندر مودی کو غرور میں مبتلا کردیا ہے… اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ بھارت مستقبل کی سپرپاور ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارتی معیشت ’’خدمات‘‘ (Services) فراہم کرنے کی بنیاد پر کھڑی ہے جبکہ چین کی معیشت کا دارومدار مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری اور بہترین انفراسٹرکچر پر ہے۔ بھارت میں بھی مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، مگر وہاں زیادہ تر آمدن خدمات فراہم کرنے سے ہی ہوتی ہے۔ مزید برآں بھارت کا انفراسٹرکچر آج بھی کمزور اورفرسودہ ہے۔ لہٰذا جب بھی خدمات کے شعبے کو زوال آیا، بھارت کی شرح معاشی ترقی دھڑام سے گرپڑے گی۔

لیکن نریندر مودی سپرپاور بننے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر امریکا کا طفیلی بننے کو تیار بیٹھے ہیں۔ اسی لیے بھارتی میڈیا میں چین کے خلاف پروپیگنڈا شروع ہوچکا۔ بھارت میں عوام پر زور دیا جارہا کہ وہ چینی مصنوعات نہ خریدیں۔ یہ گویا چین سے باہمی تجارت کم کرنے کا حربہ ہے۔

بھارتی حکومت کے انداز و اطوار سے عیاں ہے کہ وہ امریکیوں کے بچھائے دامِ تزویر میں پھنس چکی جو مفاد پرست ہونے کی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ امریکا کی تمنا پر اپنے پڑوسیوں، چین اور پاکستان سے تصادم چاہتی ہے۔لیکن اس تصادم کے بھیانک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم کو اپنے مہاتما گاندھی کا یہ قول یاد رکھنا چاہیے:

’’میں نے ہمیشہ امن کو جنگ پر ترجیح دی ہے۔ بعض اوقات لگتا ہے کہ جنگ سے فائدہ ہوگا مگر یہ فائدہ عارضی ہوتا ہے کیونکہ جنگ کا نتیجہ ہمیشہ نقصان دہ اور خطرناک نکلتا ہے۔‘‘

نئی گریٹ گیم میں پاکستان کا کردار
امریکا، چین اور بھارت کے مابین جنم لیتی نئی گریٹ گیم میں ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ منصوبے کی وجہ سے پاکستان بھی اہم کھلاڑی کا درجہ اختیار کرچکا۔ اب چین کے لیے یہ منصوبہ بحیرہ جنوبی چین کے متبادل راستے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے چین پاکستانیوں کی مدد سے یہ پروجیکٹ مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ جبکہ مخالفین خصوصاً بھارت اور امریکا کی سعی ہوگی کہ یہ منصوبہ کسی طور مکمل نہ ہونے پائے۔ اس سلسلے میں بھارتی و امریکی خفیہ ایجنسیاں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرچکیں۔ وہ سبھی پاکستان مخالف قوتوں سے رابطے کررہی ہیں تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام بنایا جاسکے۔

مثال کے طور پر 30 مئی کو کراچی میں ایک چینی انجینئر کی گاڑی پر بم حملہ ہوا۔ خوش قسمتی سے انجینئر کی جان بچ گئی۔ یہ انجینئر اقتصادی راہداری منصوبے کے ایک ذیلی پروجیکٹ سے وابستہ ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری ’’سندھو دیش لبریشن آرمی‘‘ نامی علیحدگی پسند تنظیم نے قبول کرلی۔ اس حقیقت سے عیاں ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی، را پاکستان دشمن تنظیموں کو اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام بنانے کا مشن سونپ چکی۔ را پاکستان میں مصروف عمل علیحدگی پسند اور شدت پسند مذہبی تنظیموں کی ’’مائی باپ‘‘ سمجھی جاتی ہے۔

واضح رہے، پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے سیکڑوں ذیلی منصوبوں میں بارہ ہزار چینی انجینئر اور دیگر ہنرمند کام کررہے ہیں۔ ان کی حفاظت کے لیے پاک فوج کا خصوصی ڈویژن بنایا جارہا ہے جس میں 17 ہزار سے زائد فوجی شامل ہوں گے۔

امریکا اور بھارت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مقابلے میں چابہار بندرگاہ منصوبہ سامنے لائے ہیں۔ افغانستان اور ایران بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ گو بھارت 2003ء سے اس منصوبے کا حصہ ہے، مگر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ منظرعام پر آنے کے بعد ہی خصوصاً مودی دور حکومت میں بھارتی اسٹیبلشمنٹ اس منصوبے میں ازحد دلچسپی لینے لگی۔وجہ یہی ہے کہ چابہار منصوبے کے ذریعے پاک چین اقتصادی راہداری کی اہمیت کم سے کم کی جاسکے۔

بھارت چابھار بندرگاہ سے ایران۔ افغانستان سرحد پر واقع افغان شہر، زرنج تک شاہراہ اور ریل پٹڑی کی تعمیر چاہتا ہے۔ بھارت پہلے ہی زرنج سے افغان شہر دلارام تک شاہراہ تعمیر کرچکا۔ مدعا یہ ہے کہ وسطی ایشیا کے ممالک اور روس مشرق وسطی اور مغربی ملکوں سے تجارت کے لیے یہ راستہ استعمال کرسکیں۔ بھارت چابہار منصوبے پر ایک سے دو ارب ڈالر (ایک تا دو کھرب روپے) خرچ کرنے کو تیار ہے۔ تاہم اکثر ماہرین کے نزدیک ترقی پذیر ملک،بھارت کی یہ بھر کم سرمایہ کاری ضائع جائے گی۔

وجہ یہ کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ چین اور پاکستان، دونوں کو براہ راست معاشی و تجارتی فوائد پہنچائے گا ۔جبکہ چابہار منصوبے سے بھارت کو کوئی براہ راست معاشی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ صرف چین کا مقابلہ کرنے اور علاقائی سپرپاور بننے کے جنون میں چابہار منصوبہ مکمل کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مقابلے میں چابہار منصوبہ بہ لحاظ رقم معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ چابہار منصوبے پر زیادہ سے زیادہ چھ سات ارب ڈالر لاگت آئے گی جبکہ پاک چین منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 46 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

مزید برآں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ چین کے عظیم الشان ’’ون بیلٹ، ون روڈ‘‘ منصوبے کا حصہ ہے۔ چین اس منصوبے کے ذریعے 60 ممالک تک سمندری و ارضی راستے تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ ان 60 ممالک میں دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی رہائش پذیر ہے۔ گو یہ زبردست منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے، مگر چین کے سرکاری بینک منصوبے سے وابستہ ذیلی منصوبوں میں ’’250 ارب ڈالر‘‘ کی سرمایہ کاری کرچکے۔ ماہرین کی رو سے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبہ ’’چار ٹریلین ڈالر‘‘ یعنی چار ہزار ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوگا۔ اس کے مقابلے میں چابہار منصوبے پر بھارت کی سرمایہ کاری مونگ پھلی سے بھی کمتر لگتی ہے۔

چین بار بار بھارت کو بھی ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دے چکا۔ مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس منصوبے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ دراصل موصوف پر امریکا کی مدد سے علاقائی سپرپاور بننے کا بھوت سوار ہوچکا۔ چناں چہ وہ چین کو اپنا حریف سمجھنے لگے ہیں، حلیف نہیں!

چین کا دیرینہ ساتھی ہونے کی وجہ سے اس ابھرتی نئی گریٹ گیم میں پاکستان کو ہوش مندی اور تدبر سے قدم اٹھانے ہوں گے۔نئی گریٹ گیم کے تینوں سرکردہ کھلاڑی فی الوقت خاموشی سے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ پاکستان کو بھی جذبات اور جلد بازی میں آئے بغیر ٹھنڈے دل سے دشمن کی چالوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ جیسے افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازع پر کھلم کھلا گرما گرمی صورتحال کی رو سے مناسب نہ تھی۔

You may also like...

%d bloggers like this: