چار عام ٹیسٹ جو کریں طویل العمری کی پیشگوئی

ہر انسان بچپن، جوانی، ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کے ادوار سے گزرتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ جسمانی طور پر فٹ شخص عمر بڑھنے کے باوجود نوجوانی جیسی سرگرمیوں کی اہلیت رکھتا ہے؟
درحقیقت ایک تحقیق کے دوران تین ہزار درمیانی عمر کے مردوں کو عام سے جسمانی ٹیسٹوں سے گزار کر ان کی جسمانی اہلیت کا تعین کرکے بتا دیا گیا کہ وہ کس حد تک بڑھاپے کے پاس کھڑے یا ان کی عمر کتنی طویل ہوسکتی ہے۔
یہ تمام ٹیسٹ توازن اور رفتار کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں اور اس کے لیے کسی قسم کا خرچہ بھی نہیں ہوتا بس وقت کا تعین اور ایک فاصلہ مانپنے کی ٹیپ چاہئے ہوگی۔

بیٹھنے کھڑے ہونے کا ٹیسٹ

فوٹو بشکریہ ریڈرز ڈائجسٹ
 
یہ ٹیسٹ کافی حد تک موت کے خطرے کا اظہار کرسکتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران جن شرکاءکو اس کا حصہ بنایا گیا، کے مطابق کم نمبر حاصل کرنے والے شرکاءکا جلد موت کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے اور اس کی وجہ کوئی بھی بیماری ہوسکتی ہے۔
اس کو کیسے کریں ؟ اس ٹیسٹ میں آپ پہلے ننگے پاﺅں کسی کھلی جگہ پر کھڑے ہو جائیں۔ خود کو فرش پر بیٹھنے کی پوزیشن میں لائیں اور اپنے ہاتھ، گھٹنے، کہنیاں یا اپنی ٹانگوں کی اطراف کو استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں۔
اب دوبارہ کھڑا ہونے کی کوشش کریں اور اس بار بھی اوپر دیئے گئے اعضاءکی مدد نہ لیں۔اگر تو آپ بغیر اعضاء کا استعمال کیے بیٹھنے اور کھڑے ہونے اور توازن بحال رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو آپ کو 10 پوائنٹس مل جاتے ہیں تاہم ہاتھ، گھٹنے یا کہنیوں کے استعمال پر ہر بار آدھا پوائنٹ کٹ جاتا ہے۔
آخر میں اپنے پوائنٹس کا تعین کریں اور اگر آپ کا اسکور 8 سے کم ہے تو تحقیق کے مطابق اس بات کا دوگنا امکان ہے کہ اگلے 6 برس میں آپ شدید طور پر بیمار یا اس دنیا سے ہی چلے جائیں گے جبکہ 3 یا اس سے بھی کم پوائنٹس حاصل کرنے والوں میں یہ خطرہ 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

کھڑے ہوکر مقررہ وقت میں واپس آکر بیٹھنے کا ٹیسٹ

اس ٹیسٹ سے کسی فرد کی جسمانی سرگرمیوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس کے لیے توازن کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
اس کو کیسے کریں ؟ عام چپل پہنچے اور پھر کرسی سے اٹھ کر تین میٹر سیدھا چلیں اور پھر واپس کرسی پر آکر بیٹھ جائے۔ اس پورے عمل کا وقت نوٹ کریں اور اس کے اسکورز سے آپ کی جسمانی اہلیت کے لیول کا بخوبی انداز لگایا جاسکتا ہے۔
اگر آپ نے یہ کام 10 سیکنڈ سے زائد عرصے میں کیا تو بہت خراب کارکردگی ہے، 8 سے 10 سیکنڈ مناسب، 6 سے 7 اچھی اور 4 سے 6 سیکنڈ زبردست پرفارمنس کہلائے گا۔

ایک ٹانگ پر توازن کا ٹیسٹ

کریٹیو کامنز فوٹو
 
یہ سادہ ٹیسٹ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں لمبی عمر کا بہتر اشاریہ ثابت ہوتا ہے۔ اس میں آپ کے جسم میں توازن کی صلاحیت کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جوڑ کس حد تک جسم کا وزن اٹھا سکتے ہیں۔
اس کو کیسے کریں ؟ اپنی آنکھیں بند کرکے سیدھا کھڑے ہو اور پھر ایک ٹانگ کو موڑ کر گھٹنے تک لے جائیں، تو آپ اب ایک ٹانگ پر کھڑے ہیں اور ہاتھ پہلوﺅں پر لگے ہوئے ہیں۔ اس پوزیشن پر جتنی دیر ہوسکے کھڑا ہونے کی کوشش کریں اور کسی کی مدد سے اپنے کھڑے ہونے کا وقت نوٹ کروائیں۔
اگر آپ 1سے 7 سیکنڈ تک ہی توازن برقرار رکھ پاتے ہیں تو بہت خراب توازن کی علامت ہے، 8 سے 20 سیکنڈ مناسب قرار دیا جائے گا، اسی طرح 21 سے 30 سیکنڈ اچھا اور 30 سیکنڈ سے زائد وقت تک کھڑا ہونا بہترین جسمانی توازن کی نشاندہی کرے گا۔

بیٹھنے کھڑے ہونے کا ایک اور ٹیسٹ

یہ سب سے پہلے ٹیسٹ جیسا ہی ہے مگر اسے ایک کرسی اور ایک خاص حرکت کے ساتھ مکمل کیا جاتا ہے جس سے کسی فرد کی جسمانی سرگرمیوں کی صلاحیت اور موجودہ دل کی صحت کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے۔
اس کو کیسے کریں ؟ سب سے پہلے تو کسی کرسی میں بیٹھ جائیں اور پھر وقت نوٹ کریں کہ آپ کو کرسی سے بغیر سہارے سیدھا کھڑا ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے اور پھر بیٹھ جائیں، یہ عمل دس بار دہرائیں اور آخر میں مجموعی وقت کے مطابق اسکور کا تعین ایک منٹ میں ایک پوائنٹ یا پندرہ سیکنڈز میں 0.25 پوائنٹ سے کریں۔
اگر تو آپ نے صفر سے 10 پوائنٹ لیے ہیں تو آپ کی جسمانی حالت کافی خراب ہے، 11 سے 20 مناسب، 21 سے 35 اچھی اور 36 یا اس سے زائد پوائنٹ بہترین حالت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

You may also like...

%d bloggers like this: